آقا

0
880

میں کیا لکھوں تیرے بارے میں میرے آقا
زباں دراز میری سوچ مفلوج سی ہے
کہاں تیری ذات کی روشنی سے چمکتا ہے جہاں
کہاں میری دید بھی محدود سی ہے

تو رحمت کا خزانہ عشق کی معراج
اک تیری خاطر تخلیق ہوئی قل کائنات

تیرے دم سے ہی روح نے جلا پائ ہے
تیرا ناتا ہی خلکت کی پزیرائی ہے

تو جو چاہے تو بھر دیتا ہے جھولی سب کی
کیا خوب رضا پائ ہے تو نے رب کی

تو ہی عشق کا عین تو ہی قاف ہے
باقی سب دھندلا تو ہی صاف ہے

تو ہے روح کی جمبش اور سکتا تو ہی
قُل دنیا میں فقط ایک ہے یکتا تو ہی

تیری نسبت میرا حاصل میری کمائ ہے
اس کے سوا کچھ نہیں نین بس رسوائ ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here