اب مجھے آہٹ نہیں آتی

0
297

اب مجھے آہٹ نہیں آتی
نہ مجھے وسوسے ستاتے ہیں
اب بس دور تلک تنہائی ہے
اور خامشی کا ڈیرا ہے

نہ خواہش کوئی نہ طلب رہی
نہ حصول کی کچھ کسک رہی
اب بس مطمئن سی ہستی ہے
اور سقوت کا بسیرا ہے

ہے رزق وہی جو نہ رک سکے
اور عشق وہی جو نہ مٹ سکے
یہ اسکے کرم کی سبیل ہے
یہ اُسکی عطا۶ کا ڈیرا ہے

ہے ذکر میں ہر شے یہاں
اور فقر میں عرشِ نہاں
محبوب کے ہیں اسیر سب
وہی نور وہی سویرا ہے

نینٓ وہ جیسے رکھے
جس حال میں جس بھیس میں
ہے سر تسلیمِ خم وہاں
وہی تیرا رب وہی میرا ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here