….اَب تو

0
366

اب تو شیشے میں خود کو ہی ڈھونڈتا ہوں میں
اُس میں اب میں نہیں دکھتا وہ دکھتا ہے

یہ رستے یہ گلیاں یہ تمام گھر
ان میں کوئ نہیں بستا وہ رہتا ہے

پھول کی خوشبو کو جو سونگھنے جاؤں
اُس میں اُسی کا عِطر ہی تو رِستا ہے

میرے لیئے جدائی بس معراج کی سی ہے
پلک جو جھپکوں تو سامنے وہ بستا ہے

یہ نشہ ٹوٹنے اب نہیں پائے
میرا ساقی لیئے جام مجھکو تکتا ہے

چلو چلیں آسمانوں کی سیر پے اب نینٗ
وہ دیکھو عرش پے پھر نور سا برستا ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here