بہت عرصہ ہوا

0
338

بہت عرصہ ہوا خود سے نہیں ملا ہوں میں
سوچتا ہوں کیوں اتنا بدل گیا ہوں میں

اب بھی موسم تو ویسے ہی رنگ بدلتے ہیں
نئے پتے آتے ہیں پرانے جھڑتے ہیں

بارشیں اتنی ہی تیز ہوتی ہیں
دن ویسے ہی سب ڈھلتے ہیں

ہوا تھمتی بھی ہے اور چلتی بھی ہے
کنول کے پھول ویسے ہی کھلتے ہیں

لوگ آتے ہیں جاتے ہیں پہلے کی طرح
رشتے ناتے اب بھی ویسے ہی بنتے ہیں

پھر بھلا کیوں سب ویسا ہے پر میں نہیں
گھر گھر جیسا ہے پر ہے نہیں

سانس آتی تو ہے دل دھڑکتا بھی ہے
احساس جینے کا پر ہے ہی نہیں

نین اَجب کشمکش میں پھنس گیا ہوں میں
دنیا کے بھنور میں جھلس گیا ہوں میں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here