جام بھر نہیں سکتا

1
71

یہ جام بھر نہیں سکتا چاہے جتنا بھرا جائے
یہ طلب لا فانی ہے لگ جائے سو مٹ جائے

ذرے کا مقدر ہے حقارت سے پسے جانا
جو پس جائے وہی ذرّہ ہی قسمت کا دھنی پائے

رُخے یارا ہے اک آتش جو روح کو بھسم کر ڈالے
جو روح فناء کو جا پہنچے وہی بقاء کو پا جائے

شہنشاہ کچھ نہیں ہوتا گداء ہونا سعادت ہے
گداء اس کا جو بن جائے وہ دنیا قدموں میں پائے

لکھے کیا نینٓ کیا اوقات اس گھٹیا سے کتے کی
جو ہو نسبت عطا اِسکو تو یہ بھی قصوا کہلاۓ

1 COMMENT

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here