جام بھر نہیں سکتا

1
201

یہ جام بھر نہیں سکتا چاہے جتنا بھرا جائے
یہ طلب لا فانی ہے لگ جائے سو مٹ جائے

ذرے کا مقدر ہے حقارت سے پسے جانا
جو پس جائے وہی ذرّہ ہی قسمت کا دھنی پائے

رُخے یارا ہے اک آتش جو روح کو بھسم کر ڈالے
جو روح فناء کو جا پہنچے وہی بقاء کو پا جائے

شہنشاہ کچھ نہیں ہوتا گداء ہونا سعادت ہے
گداء اس کا جو بن جائے وہ دنیا قدموں میں پائے

لکھے کیا نینٓ کیا اوقات اس گھٹیا سے کتے کی
جو ہو نسبت عطا اِسکو تو یہ بھی قصوا کہلاۓ

1 COMMENT

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here