جواب شکوہ (ایک ملازمت پیشہ باپ کا بیٹی کے نام)

0
293

میری جان میں تم سےجو دُور ہوں
یقین مانو بہت مجبور ہوں
مجھے فِکَر ہے یہ کل جب آئے گا
کیا تمہارا بابا تمہارے لئے کچھ کر پائے گا

دوڑ زمانے کی بہت ہی تیز ہے
ہر طرف نفس کا آسیب ہے
مجھے فِکَر ہے یہ بادل جب چھائے گا
کیا تمہارا بابا تمہارے لئے کچھ کر پائے گا

تم کو ابھی اڑان بھرنی ہے
بُلندیوں پہ کمان دھرنی ہے
مجھے فِکَر ہےطوفاں جب آئے گا
کیا تمہارا بابا تمہارے لئے کچھ کر پائے گا

تم نے گھر سجانا ہے اک دن جدا ہو کے
کسی سنگ جانا ہے مجھ سے وِدا ہو کے
مجھے فِکَر ہے وہ پل جب آئے گا
کیا تمہارا بابا تمہارے لئے کچھ کر پائے گا

بہت کچھ کرنا ہے وقت ہے کم
تیرا گلشن خوشیوں سے بھرنا ہے مجھ کو ہر دم
مجھے فِکَر ہےکیا یہ ہو پائے گا
کیا تمہارا بابا تمہارے لئے کچھ کر پائے گا

نینٗ میں دُور ہوں تو صرف تمہارے لیے
اِتنا مجبور ہوں تو صرف تمہارے لیے
پرمجھے یقین ہے مالک وہ دن لائے گا
جب تمہارا بابا تمہارے لئے کچھ کر پائے گا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here