فقط اتنا سا کہنا ہے

0
588

فقط اتنا سا کہنا ہے
مجھے تیرے سنگ رہنا ہے

چاہے جتنے کٹھن ہوں پل
چاہے جتنی خزاں راتیں
مجھے تیرے دم سے جینا ہے
مجھے تیرا بن کے مرنا ہے

تیرے ہونٹوں کی جنبش سے میری دھڑکن چہکتی ہے
تیرا کنگن کھنکتا ہے میری ہستی سنورتی ہے
تیری صبحوں میں جَگنا ہے
تیری راتوں میں سونا ہے

تیری آنکھوں کی مستی میں میری دنیا کی سانسیں ہیں
تیری ذلفوں کی شاموں میں پنہاں ساری سوغاتیں ہیں
تیری چاہت ہی راحت ہے
تیرا بس بن کے رہنا ہے

قلم یہ نینّ کا تیری فقط چاہت میں ڈوبا ہے
یہ جو لفظوں کا جادو ہے فقط تیری ہی پوجا ہے
نہ ہے دنیا سے کچھ مطلب
میری بس تو ہی رینا ہے

فقط اتنا سا کہنا ہے………..
مجھے تیرے سنگ رہنا ہے…….

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here