لفظ سبھی خفا ملے

0
420


اک بند کتاب کو کھول کر پَنے کو پلٹنا چاہا تو
مجھے لفظ سبھی خفا ملے ہاں لفظ سبھی خفا ملے

پھر اّنکھوں کو مینے بھینچ لیا ھونٹوں کو مینے سینچ لیا
اک انواں پے مرکوز کیا سوچ کے سب شاھینوں کو مینے دھیرے پڑھنا شروع کیا

مْلک لکھا تھا پَنے پے جس ملک کا میں اک باسی ھوں
پہچان ملی جس کے دم سے جس دیس کا میں اک داسی ہوں

اْسی ملک پے لکھا ہوا تھا کچھ لفظوں کا جیسے جال سا تھا
اک سوچ تھی چند اک ذہنوں کی دھندلا سا کویٔ خیال سا تھا

جان، قربان اور آن کے جیسے لفظ سبھی مینے پڑھ ڈالے
قصے کل اور آج کے سارے پڑھ پڑھ کے مینے گَھڑ ڈالے

پنے پلٹ پلٹ کے جب آخر میں میں پہنچا تو
اک جملہ لکھا ہوا تھا یہ کیا سیکھا تم نے اس سب سے

اک پل کو میں تھم سا گیا اور ترتیب دی ساری باتوں کو
اور سوچا کیا سیکھا مینے بس ملک ہی میرے ذہن میں تھا اور باقی سب تھا بھول گیا

پھر سر کو جھٹک دیا مینے اور غور کیا پھر لفظوں پے
مجھے لفظ سبھی خفا ملے ہاں لفظ سبھی خفا ملے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here