لو آج ایک اور سال بیت گیا

1
884

لو آج ایک اور سال بیت گیا
ھم ہار گَے اور وقت جیت گیا

ھم نے ٹھانا تھا اب کے جیتیں گے
نیت نٔی پریت کی سینچیں گے

خشیوں سے دامن کو بھر لیںنگے ھم
راہت کے موسموں کو دھر لینگے ھم

ھوأؤں میں ایسی لینگے اُڑان
آسماں بھی رشک کرے گا ھر گام

دین دنیا سبھی پا لینگے
روٹھے اپنے سبھی منا لینگے

ھاتھوں کی لکیروں کو خود دِشا دینگے
تلخ پَنے سبھی مِٹا دینگے

پر آج سال بعد بھی وہیں ہیں ھم
نین٘ میں پھر وہی سپنے وہی پیہم
پھر وہی آس لیے سؤینگے
نَیٔ صبح نیا بیج بو ٔینگے

1 COMMENT

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here